Showing posts with label سائنس. Show all posts
Showing posts with label سائنس. Show all posts

Friday, 2 August 2019

/


A straightforward look or listen may appear that the word calculation is an advanced term, however in certainty the word is around 900 years of age. The word originates from the name of Persian mathematician Mohammad Ibn Musa al-Khwarzmi. 

Al-Khwarzami was conceived in 780 AD in Uzbekistan, and his name shows that he was related with ailing health. He held a high office in the House of Wisdom or Bethlehem. It was the home of learned people in Baghdad in the ninth century. He assumed a huge job in the advancement of science, cosmology, geology and cartography or mapping. He composed various celebrated books, for example, 'Concerning the Hindu Art of Reckoning' or 'List of sources'. 

after 300 years the book was re-found and converted into Latin. This book enlightened the West with Hindu-Arabic numerals and in the long run supplanted the unpretentious Roman numerals. 

The arrangement of decimals and Hindu Arabic numerals is depicted by Khawarzmi in his book as the premise of numbers utilized today on the planet. This framework can even anticipate how we should cast a ballot and how to experience passionate feelings for. 

How this little word was developed in the Mediterranean locale of Persia is gradually transforming us. 

Al-Khwarzami's name was written in Latin on his book when it was composed Algorithm. What's more, from here the word calculation began to be utilized in science. 

The wellspring of the word variable based math is likewise the title of al-Khwarizmi's book 'Al-Jabr'. This book presents the fundamental standards of polynomial math and approaches to take care of issues. His books started an unrest in arithmetic in the West. He depicted how to tackle complex issues in basic parts and settle them. 


In the Middle Ages, calculations implied the arrangement of decimal numbers. It ended up utilized in the English language until the thirteenth century and was utilized by creators, for example, Chaucer. In any case, in the late nineteenth century, calculations started to be presented as a complete philosophy for taking care of issues.

Saturday, 16 February 2019

/


جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شوگر ایک بہت ہی موزی بیماری ہے، شوگر کے مریضوں کا انسولین کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ 

امریکہ کہ سائینٹسٹس نے سمندر میں موجود سمندری گھونگوں سے حاصل ہونے والے زہر سے اس مؤزی مرض کا علاج ڈھونڈ لیا ہے۔

 سمندری گھونگے میں 200 سے زیادہ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں۔ جن کو استعمال کرکے یہ دیگر مچھلیوں اور حشرات کا شکار کرتی ہیں۔

 ان دو سو کمپاؤنڈ میں ایک کمپاؤنڈ انسولین ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے سمندر سے تین مختلف قسم کے گھونگوں سے حاصل کردہ زہر کا تجربہ کیا

 حیران کن بات یہ تھی کہ تینوں کے زہر(انسولین) مختلف تھی۔ مگر ان سے حاصل کردہ انسولین عام روٹین میں استعمال ہونے والی انسولین سے بہت زیادہ تیز تھی،

 اس انسولین میں "اےچین" نامی جزو انسانی استعمال انسولین کی نسبت بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

 جس سے شوگر لیول زیادہ دیر تک کنٹرول میں رہتا ہے۔ 

/


ہمارے گھروں میں بعض اوقات جو کھانے بچ جاتے ہیں انہیں فریج میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ تاکہ اگلے روز اسے استعمال میں لایا جا سکے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول جو بچ جاتے ہیں انہیں دوبارہ استعمال میں لانا کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

 بچے ہوئے چاول سے فوڈپوائزنئنگ جیسی بیماری ہو سکتی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ کچے چاولوں میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں

 جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں، اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پکنے کے بعد اس میں کچھ مقدار بیکٹیریا کی رہ جاتی ہے۔

 اور کمرے کے درجہ حرارت پر یہ بیکٹیریا دوگنا افزائش پاتے ہیں۔ چاول کھانے کے ایک سے پانچ گھنٹے بعد فوڈ پوائزننگ، الٹی یا ڈائریا کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

 مگر اسکا اثر 24 گھنٹے تک رہتا ہے۔ اس لیئے یہ زیادہ خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔

 ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ چاول کی صرف اتنی ہی مقدار پکائیں جتنی ایک بار میں سرو ہوں، اگر بچ بھی جایئں تو بچے ہوئے چاول چوبیس گھنٹے کے اندر اندر زیر استعمال لائیں۔

 اور کوشش کریں کہ فریج میں رکھے گئے چاول کو ایک ہی بار میں گرم کر کے استعمال کریں، بچے ہوئے چاول کو بار بار گریج میں رکھنا یا گرم کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

Friday, 15 February 2019

/


بھارت کے مدھیہ پردیش میں رہنے والا ایک بچہ، للت پیٹیدا جس کی عمر تیرہ سال ہے کے تمام جسم پر بال نکلے ہوے ہیں۔

 اور ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج کرار دے دیا ہے۔ زرائع کے مطابق رتلام نامی بستی میں رہنے والے اس لڑکے کے تمام جسم و چہرے پر کسی عجیب بیماری کی وجہ سے، بال نکلے ہوئے ہیں۔

 ڈاکٹرز کے مطابق، للت پیٹیدار کو ویرولف سینڈروم نام کی بیماری ہے۔ بستی میں رہنے والے تمام لوگ للت کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اس سے نفرت کرتے ہیں۔

 للت کے چند ہی دوست ہیں جن کے ساتھ وہ کھیلتا ہے۔ للت کا کہنا ہے کہ انجان لوگ اسے دیکھ کر پتھر مارتے ہیں

 اور بندر بندر کہ کر بلاتے ہیں، جو کہ اس کے لیئے تکلیف دہ ہے۔ للت امید رکھتا ہے کہ آئندہ مستقبل میں اسکی اس بیماری کا علاج ضرور ایجاد ہو جائے گا۔

Monday, 11 February 2019

/


نظام شمسی میں موجود سورج کبھی بھی پہلے سے موجود نہیں تھا، بلکہ سورج نظام شمسی میں پائے جانے والے ان باقی ستاروں کے مواد سے بنا ہے

 جو کہ پھٹ کر یا ٹوٹ کر خلا میں بکھر گئے تھے، ستاروں کے ٹکڑے یا مواد جن  کےاندر گیسوں کے زرات، جو کہ آپس میں کشش ثقل کیوجہ سے جڑنا شروع ہو گئے۔

 اور آہستہ آہستہ مرکز میں جمع ہوتے گئے اور اس طرح سے مرکز کے وزن میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور اسطرح اسکے حجم میں اضافہ ہوتا چلا گیا

 اور جلد ہی اس نے باہر سے بہت زیادہ مواد کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ اسطرح سے نیوکلئر فیوژن کا آغاز ہوگیا۔

 اس عمل کے دوران ہاہیڈروجن گیس کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم گیس بنا دیتے تھے، جس کے نتیجے میں بھاری مقدار میں توانائی کا خروج ہوتا ھے

 اور اسی عمل کی وجہ سے اب تک سورج حرارت/توانائی پیدا کر رہا ہے۔ اور اسی عمل کی وجہ سے سورج سے حرارت/توانائی اور روشنی کا اخراج ہوتا ہے۔

 یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ پانچ ارب سالوں تک اس عمل کے جاری رہنے کے امکان ہیں۔

Where-did-the-sun-come-from-?-How-sun-was-created-? 

Thursday, 7 February 2019

/


برطانوی سائنسدانوں کے مطابق اب کینسر جیسے موزی مرض کا علاج اب مرغیوں سے ھاصل ہونے والے انڈوں سے باآسانے ممکن ہے،

 اور یہ طریقہ ان کے نزدیک سادہ اور سستا ہے۔ ماہرین نے مرغیوں پر جنیاتی تجربے کیئے جس کے نتیجے میں کچھ ایسی مرغیاں حاصل ہوئی

 جن کے انڈوں میں خاصی مقدار میں ادویاتی پروٹین ( میکروفیج سی ایس ایف ) موجود ہے۔ جو کہ کینسر سے لڑنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہے۔

 مزہ کی بات اس میں یہ ہے کہ ان انڈوں سے پروٹین با آسانی نکالی جا سکتی ہےاس سے قبل خرگوش اور بکریوں سے پروٹین حاصل کیا جاتا تھا

 مگر اب مرغیوں کا یہ نیا طریقہ سستا، مؤثر و سادہ مانا جاتا ہے۔

Monday, 4 February 2019

/


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) آج کے دور میں انٹرنیٹ کو روزمرہ زندگی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں چند گھنٹے انٹرنیٹ کے بغیر گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے.

 وہیں آپکو یہ سن کر بڑی حیرانی ہو گی کہ ایک ایسا ملک جہاں پچھلے 11 دن سے انٹرنیٹ کی سروس معطل ہے۔ اس ملک کا نام تونگا (Tonga) بتایا گیا ہے۔

 یہ ملک نیوزی لینڈ کے شمالی مشرق میں 1100 میل دور ایک جزیرہ پر واقع ہے۔ اس کی آبادی اندازن 1 لاکھ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سمندر میں موجود فائبر آپٹکس کے خراب ہو جانے کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس بند ہو گئی ہے۔

 تمام ملک میں فون کی سروس بھی بند پڑی ہے۔ ٹونی میتھیاس، ایک ٹور کمپنی کے مالک، کا کہنا ہے کہ فون اور انٹرنیٹ سروسز کے معطل ہونے کی وجہ سے ان کا رابطہ اس ملک میں موجود انکے کسٹمرز سے نہیں ہو پا رہا۔

 مزید انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے کسٹمرز کو فوری جواب دیا کرتے ہیں، مگر اب اندازہ کر سکتا ہوں کہ میرے کسٹمر اس تکنیکی خرابی کی وجہ سے کتنے پریشان حال ہوں گے۔

Search This Blog

Powered by Blogger.

Popular Posts

BTemplates.com